نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں
*ہماری شادیاں بربادیاں کیوں بن رہی ہیں؟* 📝تحریر : رحمت اکبر قادری ۔ 1⃣ عورتوں کا خوشبو لگا کرشادی ھالز میں آنا: رسول ﷺ نے تو ایسی عورت کو زانیہ کہا ھے جو خوشبو لگا کر مسجد تک بھی جائے اور اس کی خوشبو دوسرے پا لیں۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ ایسی عورتیں شاید انگلیوں پہ گنی جاسکیں جو شادی بیاہ کی تقریبات میں خوشبو لگا کر نا جاتیں ہوں ۔ایسے میں برکت کیونکر نازل ہو گی؟ 2⃣ مرد و زن کا اختلاط: ایک دفعہ مسجد سے نکلتے ہوئے صحابہ و صحابیات کا اختلاط ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کو تنبیہ کی کہ وہ رستے کے درمیان میں نہ چلیں بلکہ سائڈ پر ہو کر چلیں۔صحابیات یہ تنبیہ سن کر اس طرح کنارے کنارے چلا کرتی تھیں کہ انکے کپڑے رستے کی جھاڑیوں سے اٹک جاتے تھے۔آج حال یہ کہ نکاح وولیمہ کی کونسی ایسی تقریب ہے جس میں اختلاط نہ ہوتا ہو؟ کیا ایسے میں ہم نکاح کی برکات سمیٹ سکتے ہیں؟ 3⃣ لباس پہن کر بھی ننگی ھونا: رسول ﷺ نے فرمایا تھا کہ بعض عورتیں لباس پہن کر بھی ننگی ہوں گی۔ آج دیکھا جائے تو ٹائٹس، شارٹ شرٹس، جالی دار کپڑے کی صورت میں ایسے لباس عام ہیں جن کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا ھے کہ یہ عورتیں لباس پہننے کے باوجود ننگی ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر تو کاسیات، عاریات کے ساتھ ساتھ اور زیادہ بن سنور کر ممیلات یعنی دوسروں کوما‏ئل کرنے والیاں بن کر ہوبہو رسول اللہ ﷺ کی وعید کی مستحق بن جاتیں ہیں۔ ایسی عورتوں کےبارے میں آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ جنت کی خوشبو بھی نہ پا سکیں گی۔ کیا ایسا نکاح اجر کا سبب بنے گا یا گناہ کا؟ 4⃣ موسیقی: اب خوشی کا موقع ہے، دوست احباب جمع ہیں، ایسے میں گانا بجانا تو لازمی ہے۔ جب کہ سلف کے اقوال میں یہ ملتا ھے کہ گانا زنا کی سیڑھی ہے۔ بینڈ باجے کے بغیر شادی کو اب "سوگ" سے تشبیہ دی جاتی۔ 5⃣ دلہا میاں کا عورتوں کی سائیڈ پہ جانا: ایک انتہائی فضول اور گھٹیا رسم یہ ھے کہ دلہا میاں نے بیوی تو ایک بنائی ھے لیکن ہمارے جاہلی رسم و رواج نے اب سب راستے کلیئر کردیئے ھیں۔ دلہا میاں دودھ پلائی و سلامی کے لیے خواتین والی سائیڈ پہ جاتے ھیں۔ بنی سنوری عورتیں ہیں، آج محرم نامحرم کی ساری تقسیم مٹ گئی ہے۔ھنسی مذاق ہے۔ ایسے ایسے تبصرے ہیں جنہیں ہمارے آبا و اجداد سنتے تو شاید موقعے پر بے ہوش ہو جاتے لیکن ہم تو اسے خوشیاں منانا کہتے ھیں (شاید صحابہ و صحابیات کو تو خوشیاں منانا ہی نہیں آتی تھیں ؟َ!) نعوذبااللہ من ذالک 6⃣ مکلاوا: شادی سے اگلے دن دلہا میاں سسرال پہنچتے ہیں جہاں سالیاں ہیں، سالوں کی بیگمات ہیں، کسی کے قد پر کسی کے رنگ پر چٹکلے ہیں۔ دلہا میاں بلا روک ٹوک گھر میں گھوم رھے ہیں۔ شریعت کی حدوں سے آج چھٹی کا دن ہے۔ اس "چھٹی" کے ختم ہوتے ہی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جنہیں نہ نگل سکتے ہیں نہ اگل سکتے ہیں سوچتا ہوں شریعت کی کھلم کھلا نافرمانیاں کرنے کے بعد نکاح کا مقصد عفت و پاک دامنی کیونکر حاصل ہو.

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

Judge video scandal: Arshad Malik says he was blackmailed through his immoral video

Judge video scandal: Arshad Malik says he was blackmailed through his immoral video ISLAMABAD: The accountability court judge Arshad Malik has submitted an affidavit to the Islamabad High Court in which he has explained in detail about the whole video controversy. Arshad Malik in his affidavit submitted that during the hearing of reference against Sharif family, the PML-N leaders tried to bribe him and threatened him with dire consequences if the he rejected to fulfil their demands. Arshad Malik disclosed that in the middle of February, 2019 he met with Khurram Yousaf and Nasir Butt. During conversation, he said, NasirButt asked his whether Nasir Janjua had shown him ‘the Multan video’. “I did not make an immediate connection with this statement and said I did not know what he was talking about. Nasir Butt then said, in a sinister manner, that you will be shown the video in a few days. Shortly thereafter, I was visited by Mian Tariq (an old social acquaintance from w...

‏کراچی میں سابق جج کے نام پر بائیس سو گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف 2224 گاڑیاں اپنے نام سے رجسٹرڈ کا معلوم ہونے پر سابق جج سکندر حیات سپریم کورٹ پہنچ گیا..

کراچی: شہر قائد میں سابق جج سکندر حیات کے نام پر 2 ہزار 224 گاڑیاں رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق غریب افراد کے نام جعلی اکاؤنٹس اور جعلی فیکٹریوں کے بعد اب گاڑیوں کی جعلی رجسٹریشن کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کراچی میں 82 سالہ سابق جج سکندر حیات کے نام پر 2 ہزار 224 گاڑیاں رجسٹرڈ نکل آئیں، جس پر سابق جج نے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا ہے ۔ سکندر حیات کے وکیل میاں ظفر نے سپریم کورٹ میں بیان دیا ہے کہ میرے موکل کو کچھ دن قبل ایک گاڑی کا چالان موصول ہوا، چالان کے حوالے سے محکمہ ایکسائز سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ ان کے نام پر 2 ہزار 224 گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں، جب کہ میرے موکل نے اپنے نام پر ایک ہی گاڑی رجسٹرڈ کرائی ہے۔ سپریم کورٹ کراچی رجسٹری نے سیکریٹری اور ڈائریکٹر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے جواب طلب کرلیا ہے اور محکمہ ایکسائز سے رجسٹرڈ گاڑیوں کی رپورٹ ایک ہفتے میں طلب کرلی ہے۔